دمشق،15؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات کی حمایت کردی ہے اور کہا ہے کہ یہ اجلاس جنیوا میں سیاسی مذاکرات کے آیندہ دور کی بحالی کا نقطہ آغاز ہوگا۔سعودی عرب میں مقیم اعلیٰ مذاکرات کمیٹی کی قیادت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ عسکری وفود کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتی ہے۔اس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اجلاس سے جنگ بندی کو بھی تقویت ملے گی۔ایچ این سی کا کہنا ہے کہ وہ آستانہ مذاکرات کو جنیوا میں ہونے والے سیاسی مذاکرات کے آیندہ دور کا ابتدائی قدم قرار دیتی ہے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ 8فروری کو جنیوا میں الگ سے امن مذاکرات بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ماضی میں بھی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان وقفے وقفے سے مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں لیکن یہ کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔شامی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان 30دسمبر سے ترکی اور روس کی ثالثی میں جنگ بندی جاری ہے اور روس قزاق دارالحکومت آستانہ میں ان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے کوشاں ہے۔تاہم ان مذاکرات کی ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے اور نہ یہ واضح ہے کہ حزب اختلاف کے گروپوں کی جانب سے کون اس بات چیت میں شریک ہوگا۔
روس نے کہا ہے کہ آستانہ مذاکرات اقوام متحدہ سے مل کر منعقد کیے جائیں گے۔تاہم یورپی سفارت کاروں اور حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ان مسلح گروپوں کو ان مذاکرات میں مدعو کیا جائے گا جن کی سیاسی حزب اختلاف میں محدود نمائندگی ہے حالانکہ ان میں آئین جیسے امور سمیت مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی۔شام میں روس اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود امریکا کی قیادت میں اتحاد اور شامی حکومت کے باغیوں ،داعش اور جیش فتح الاسلام کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی جاری ہیں جبکہ دارالحکومت دمشق کے نواح میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں اور متحارب فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔